Saturday, October 31, 2020
Home خواتین معاشرے میں عورت کا مقام (سدرہ سلیم )

معاشرے میں عورت کا مقام (سدرہ سلیم )

309635-girlvictimwomenviolencewomanxپندرہ سالہ لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا اور جائے وقوعہ سے ملزم فرار ہوگئے“۔ یہ ایک نہیں بلکہ ایسے ہزاروں واقعات اکثر و بیشتر سننے کو ملتے ہیں۔ وحشت اور درندگی اپنے عروج پر ہے اور والدین ایسے ہی خطرات واقعات سے بچنے کے لئے اپنی بچیوں کو اسکول نہیں بھیجتے۔
یہ معاشرہ ہمیشہ سے ہی عورت کے لئے اتنا غیر محفوظ رہاہے اور اسے کمزور سمجھ کر اس پہ ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور اس کا وجود معاشرے کی کالی بھیڑیں فنا کرنے پہ تلی ہوئی ہیں اسی وجہ سے لڑکیوں کو تعلیم دلوانے کے لئے گھر سے باہر نہیں نکالا جاتا۔ ہمیشہ سے گھر اور عورت کا آپس میں گہرا تعلق رہا ہے۔
دنیا میں عورت کے حقوق کیلئے بات کرنے والے بہت آئے اور بہت گئے لیکن باتیں صرف کہنے کی ہی ہیں اس پر عمل کرنے والا کوئی نہیں۔ عورت پہ ظلم کے ہزاروں واقعات روزانہ سننے کو ملتے ہیں۔ اسلام ہی ایسا مذہب ہے جو عورت کو سب سے اچھے حقوق دیتا ہے لیکن ہم مسلمان ہی اسلام کے نافذ کردہ قوانین کی نفی کرتے ہیں۔ کون ہے جو عورت کو اس کے حقوق دلوائے اور ان کے جذبات کی ترجمانی کرے؟ وہ کوئی اور نہیں وہ خود عورت کی ذات ہے جو اپنے حقوق کیلئے قلم اٹھا سکتی ہے اور قلم میں وہ طاقت ہے جو کسی اور چیز میں نہیں، تو اگر کوئی آپ کو آپ کا حق نہیں دیتا تو اس کے لیے عورت کو خود کوشش کرنی چاہئے خود ہمت کرنی چاہئے۔
اگر عورت ماو¿نٹ ایورسٹ سر کر سکتی ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہے صد افسوس کہ ہمارا معاشرہ عورت کو اس کے حقوق دینے سے قاصر اور گریزاں ہے۔ انسان پتھر کے زمانے سے تو بہت آگے آگیا ہے لیکن اس کا دماغ اور سوچ بد سے بدتر بنتی گئی اور آج انسانیت کسی کونے میں پڑی سسک رہی ہے اور ہم یہاں جنگل کا قانون رائج کئے بیٹھے ہیں۔ ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگلنے کے چکر میں ہے اور اس سب میں ہم اپنے مقاصد، دین، ایمان، فرائض اور حقوق سب بھول گئے ہیں۔ سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والی ذات عورت کی ہے۔
جب مرد اپنے فرائض بھول جائیں تو عورتوں کو باہر نکل کر آگے آنا ہوگا اور دنیا کو ایک پیغام دینا ہوگا کہ ہم کمزور نہیں عورت گھر کی مالکن ہوتی ہے یا پاﺅں کی جوتی، زیادہ تر یورپین لوگ پاکستان عورتوں کے بارے میں یہ ہی رائے رکھتے ہیں کہ نہ تو ان کو بولنے کا موقع دیا جاتا ہے اور نہ انہیں ان کے جائز حقوق دئے جاتے ہیں اور یہ سچ بات ہے کہ اسی فیصد لوگ ایسا ہی کرتے ہیں اور یہ مسئلہ تب حل ہوگا جب عورتیں پڑھی لکھی ہونگی اور اپنے حقوق و فرائض صحیح طریقے سے جانتی ہونگی۔
ہمارے معاشرے میں عورت اگر اپنے حقوق و فرائض جان بھی لے تو بھی اسے اپنا گھر بچانا ہوتا ہے رشتے نبھانے ہوتے ہیں اور اس کیلئے اسے قربانی دینی پڑتی ہے۔ عورت کسی بھی معاشرے کیلئے اکائی ہے اور اس اکائی کو بچانا ہر ایک کا فرض ہے۔ سماج کے ٹھیکیدار باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن جب وعدے پورے کرنے کی باری آتی ہے تو کہیں دکھائی نہیں دیتے تو پھر اسی لئے ضرورت ہے اس امر کی کہ عورتوں کو چاہئے کہ اتنی تعلیم ضرور حاصل کریں کہ وہ اپنے حقوق کے لئے لڑ سکیں، سر اٹھا کر جینے کے قابل ہو سکیں اور اپنی آنے والی نسلیں سنوار سکیں۔
محمد بن قاسم طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی جیسے عظیم لوگ بنانے کے لئے ضروری ہے کہ عورتیں تعلیم یافتہ ہوں اپنے بچوں کو دین اور دنیا دونوں کی تعلیم دے سکے اور ثابت کر سکے کہ وہ کسی سے کم نہیں وہ ثانوی حیثیت نہیں رکھتیں بلکہ وہ معاشرے کا وہ لازمی جزو ہیں جن کو الگ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے اور یہ سب تب ہی ممکن ہو گا جب معاشرے میں تعلیم عام ہوگی۔ ہمیں عزم کرنا ہے کہ ہم اپنے ذوق حقوق کے لئے لڑیں گے اور جیتیں گی انشاللہ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ میں کورونا سے5 افراد جاں بحق، 237 متاثر

راچی: صوبہ سندھ میں عالمی وبا کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق جب کہ مزید 237 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ...

ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول

کراچی: ٹریفک پولیس پر حملے کی دھمکیاں ملنے کے بعد تمام افسران و اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس پہننے کی ہدایات جاری...

گاڑیوں کی ٹکر سے نیوی افسر سمیت3 اہلکار جاں بحق،پولیس اہلکار زخمی

کراچی: گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، ریسکیو حکام کے مطابق...

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...