Tuesday, October 27, 2020
Home کالم /فیچر کیا تاریخ خود کو دوہرائے گی؟؟؟

کیا تاریخ خود کو دوہرائے گی؟؟؟

ICCCricketWorldCup2015320x1202015کرکٹ ورلڈ کپ اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ کرکٹ شائقین کی دل کی دھڑکنوں کو تیز کرنے اور کرکٹ کی حکمرانی کا تاج اس کے اصل حقدا کے حوالے کرنے کا بس آغاز ہوا ہی چاہتا ہے،1992ورلڈکپ کی فاتح پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے یہ ورلڈ کپ اس لئے بھی اہم ہے کہ جب 92کا فاتح پاکستان قرار پایا تھا تو 2015ورلڈ کپ کی طرح ہی صورتحال سے دوچار تھا92میں بھی پاکستانی ٹیم زیادہ تر نئے کھلاڑیوں پر مشتعمل تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے، 92میں بھی ورلڈکپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی سر زمین پر کھیلا گیا تھا اور ابھی بھی ایسا ہی ہے، اس وقت بھی صرف عمران خان اور جاوید میانداد سنئیر کھلاڑی تھے اور آج بھی صرف مصباح الحق، یونس خان اور شاہد خان آفریدی منجھے ہوئے اور سینیر ز میں شامل ہیں۔ 92میں بھی پاکستانی ٹیم فٹنس کے مسائل کا شکار تھی آج بھی پاکستانی کھلاڑی انجریز کا شکار ہیں اس وقت بھی وقار یونس ، سعید انور ٹیم سے باہر ہوگئے تھے،،،،،اس بار بھی محمد حفیظ اور جنید خان انجریز کا شکار ہو کہ میگا ایونٹ سے باہر چلے گئے ہیں۔۔۔۔ بہت ساری باتوں میں مماثلت تو ہے مگر ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ٹیمیں صرف دعووں اور قیاس آرائیوں سے نہیں جیتا کرتیں۔  92ورلڈکپ میں بھی ابتداءکے چھ میچز پاکستانی ٹیم ہار گئی تھی، اور ابھی بھی نیوزی لینڈ میں سیزیز ہارنے کے بعد یہ ہی تاثر آرہا ہے کہ شاید ایک مرتبہ پھر تاریخ اپنے آپ کو دھرا رہی ہے اور 92کی طرح 2015کی ٹرافی ببی ہمارا ہی مقدر بنے گی۔ وارپ اپ میچ میں ہم نے بنگلادیش کو ضرور ہرا دیا جس سے شاید یہ اندازہ تو غلط ہی ثابت ہو گیا کہ اب صرف قسمیت کی مہربانی سے جیت جائیں گے۔مگر پاکستان نے دوسرے وارم اپ میچ میں انگلینڈ کو ہرا کر ثابت کر دیا کہ شاہین کسی بھی ٹیم سے کم نہں صرف پاکستان کے لیے پرفارمنس کے ساتھ ساتھ ٹیم کا متحد ہو کر کھیلنا ہی اسے بھارت سے ہارنے کی تاریخ کو بدل سکتا ہے بہر کیفگرین شرٹس کا پہلا میچ بھارت سے ہو گا جیسے ہر فورم پر فائنل کا درجہ دیا جا رہا ہے، کیونکہ پاک بھارت میچ کیسی جنگ سے کم نہیں ہے اور اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ تمام ورلڈکپ میچز کی سنسنی اور اہمیت ایک طرف اور پاک بھارت ٹاکرا دوسری طرف ہوگا جو سب پر بھاری ہوگا۔ شائقین کرکٹ کا تعلق کہیں سے بھی ہو، کسی ملک، رنگ یا نسل سے ہو مگر پاک بھارت میچ کو وہ اسی طرح سے دیکھتے ہیں جیسے ایک طرف ان کا ملک اور دوسری طرف حریف ملک سے جنگ جاری ہو۔۔۔  2015میں گرین شرٹس کا ٹیم انتخاب ابتداءسے ہی سوالیہ نشان بن گیا ہے، کھلاڑیوں کی کارکردگی اور فٹنس الگ سوال بن گئی ہے جس کا جواب صرف سیلکٹر ہی دے سکتے ہیں۔ پاکستانی کرکٹ کا سب سے افسوسناک پہلو پاکستانی گراونڈز میں پابندی کا اطلاق ہے۔ دوسری طرف ون ڈے کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کی پچھلے پورے سال کی بدترین کارکردگی خود کہہ دیتی ہے کہ اس ٹیم سے ورلڈکپ کی توقع رکھنا محض دیوانے کا خواب یا شیخ چلی کی بانگ ضرور ہو سکتی ہے مگر حقیقت ہر گز نہیں۔البتہ ہوم گراونڈ میں نا کھیلنا بھی اس کی ایک وجہ ضرور ہو سکتی ہے کیونکہ شائقین کی داد اور پزیرائی یقینا کیس بھی کھلاڑی کو عمران خان، جاویدمیانداد، وسیم اکرم، انضمام الحق، سعید انور محمد یوسف ، وقار یونس یا شعیب اختر جیسا لیجنڈ پیلئیر بنا سکتی ہے جو اب ہمارے کھیلاڑیوں کو میسر نہیں، لیکن صرف یہ ہی بات خراب کارکرگی کی وجہ نہیں ہے ، ایک جانب دنیائے کرکٹ میں دوسرے بلے بازوں کے ریکارڈز ان کی عمدہ پرفارمنسز کی بھرمار، بولرز ہو یا بلے باز ایک کے بعد ایک ریکارڈ ان کے نام ہے دوسری جانب ہماری ٹیم مسلسل ابتری کا شکار ہے۔ جو لمحہ فکریہ ہے اس پر ٹیم مینجمنٹ کے تنازعات سونے پر سہاگہ کا کام کر رہے ہیں۔  پاکستان میں کرکٹ اور کرکٹر کی اتنی اہمیت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے سارے غم بھلا کر ٹیم پاکستان کی ایک جیت پر پورے ملک کو روشنیوں سے نہلا دیتے ہیں ہر کوئی اپنا دکھ بھلا کر چاہیے بڑھتی مہنگائی ہو، دہشتگردی کی عفریت یا سیاست دانوں کا داغا، سب بھول بھال صرف کرکٹ انجوائے کرتے ہیں یا یوں کہنا چاہیے کرکٹ تہوار کی طرح مناتے ہیں اور پاکستان بھارت سے جیت جائے تو وہ دن عید کا دن بن جاتا ہے، یہ ورلڈ کپ جہاں پاکستانی ٹیم کے لیے اسلیئے اہمیت کا حامل ہے کہ ٹیم کی گرتی ہوئی ساکھ اور پاکستانی عوام کے دلوں پر دوبارہ راج کر  سکنے کا سنہرا موقع ہے وہیں پاکستان کے سنئیر کھیلاڑیوں جن میں شاید خان آفریدی شامل ہے ، ان کے لیے اپنی پوزیشن بہتر کرنے کے لیے بہترین اور آخری موقع ہے کہ شایقین کرکٹ کو بہترین کھیل کی یادیں دے کہ الوداع کہا جائے، پاکستانی کرکٹ شائقین اپنی ٹیم سے صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ جان لڑا کر کھیلیں اور آپس کے اختلافات کو بھلا کر پاکسستان کی بقاءکے لیے میدان میں اتریں پھر اگر وہ میچ ہار میں جائیں گے تو جیت ٹیم کی ہی ہو گی، اور یقینا ہماری ٹیم میں اتنا پوٹینشل تو ہے کہ اگر ایک ہو کر کھیلی تو کوئی وجہ نہیں کہ ورلڈکپ میں پہلی بار بھارت کو زیر نہ کر سکے اور ایک مرتبہ پھر ورلڈکپ کا تاج پاکستان کے نام ہو۔۔۔۔سینیرز 92کی طرح جونئیرز کو ساتھ لیکر چلیں اور جو سینیرز اپنی تمام صلاحیتیوں کو بروئے کار لاکر صرف اتنا اپنے ذہن میں رکھے کہ یہ ورلڈکپ انھیں بھی 92کے ورلڈکپ کی طرح انضمام الحق، وسیم اکرم، مشتاق احمد اور عامر سہیل جیسا سپر اسٹار بنا سکتا ہے ۔ 18کروڑ عوام کی آنکھیں اپنے ان کرکٹرز پر لگی ہوئیں ہیں جو پوری دنیا پر یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ حوصلے بلند ہو تو لڑکھڑاتی اور گرتی ٹیم بھی اپنے حوصلے، عزم محنت اور اتحاد سے ورلڈکپ کا تاج اپنے نام کر سکتی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گستاخانہ خاکے،سندھ اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع

کراچی، فرانس میں توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےخلاف جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے صوبائی...

اے وی ایل سی کی کارروائی، موٹرسائیکلیں چھننے والے گروہ کے 5 کارندے گرفتار

کراچی:اینٹی وائلنس لفٹنگ سیل (اے وی ایل سی) نے موٹرسائیکلیں چھیننے والے گروہ کے 5 ملزمان گرفتار کرلئے ، ذرائع اے وی...

گساخانہ خاکے، کراچی بار کی بدھ کو ہڑتال کا اعلان

کراچی ، فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کامعاملہ کراچی بارایسوسی ایشن نے بروزبدھ عدالتوں میں ہڑتال کااعلان کردیا کل سٹی...

اختر کالونی، پسند کی شادی کرنےوالے نوجوان پر حملہ

کراچی، اختر کالونی میں پسند کی شادی کرنے نوجوان کا جرم بن گیا، نامعلوم افراد نے نور نامی نوجوان کو فائرنگ کرکے...