Wednesday, October 28, 2020
Home کالم /فیچر عالمی یوم حجاب (سمیحہ راحیل قاضی)

عالمی یوم حجاب (سمیحہ راحیل قاضی)

1حجاب مسلمان عورت کے لیے ایک ایسا فریضہ ہے جو وہ احکام الہٰی کے تحت ادا کرتی ہے۔ مگر آج اسے مسئلہ بنا کر اچھالا جارہا ہے۔ قرآن کریم جو ہر مسلمان کے لیے قانون کا درجہ رکھتا ہے۔ سب سے پہلے سورة نور میں آیت نازل ہوئی: ”اور اے نبیصلی اللہ علیہ وسلم مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیںاور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناﺅ سنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے کہ جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی چادروں کے آنچل ڈالے رکھیں۔“
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب سورة نور کی یہ آیت نازل ہوئی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ اسے سن کر اپنے گھروں کو پلٹے اور جاکر انہوں نے اپنی بیویوں، بیٹیوں اور بہنوں کو یہ سنائی۔ انصار کی عورتوں میں سے کوئی ایسی نہ تھی جو یہ آیت سن کر بیٹھے رہ گئی ہو۔ ہر ایک اٹھی اور کسی نے اپنا پٹکا کھولا اور کسی نے چادر اٹھا کر اس کا دوپٹہ بنایا اور اوڑھ لیا۔ دوسرے روز صبح کی نماز کے وقت جتنی عورتیں مسجد نبوی میں حاضر ہوئیں، وہ دوپٹہ اوڑھے ہوئے تھیں۔ ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ عورتوں نے باریک کپڑے چوڑے اور موٹے کپڑے کے دوپٹے بنائے۔
ٓٓپھر اگلا حکم سورة احزاب میں نازل ہوا۔”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کیے پلو لٹکا لیا کرو۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔“
ان آیات اور احادیث کے بعد کسی مسلمان میں یہ جرات نہیں ہوتی کو وہ حجاب کو بحیثیت ثقافت روایت یا معاشرت قرار دے۔ یہ واضح قرآنی و الٰہی حکم ہے جسے مسلمان عورت بڑے افتخار کے ساتھ اپنائے ہوئے ہے۔
779px-Niqabعالمی یوم حجاب 4 ستمبر کو کیوں منایا جاتا ہے؟ یہ سوال ذہنوں میں اٹھتا ہے تو اس کا پس منظر کچھ اس طرح سے ہے کہ جولائی 2004ءمیں لندن میں ”اسمبلی فار دی پروٹیکشن آف حجاب“ کے زیر اہتمام ایک اجلاس منعقد کیا گیا اور اس امتیازی سلوک کے خلاف مشترکہ پلیٹ فارم سے آواز بلند کرنے کے لئے باقاعدہ مربوط اور منظم سعی و جہد کا فیصلہ کیاگیا۔ چونکہ 2ستمبر 2003ءمیں ہیڈ اسکارف پر پابندی کا قانون منظور کیا گیا تھا اور مسلمانوں میں اس بات پر بڑا غم و غصہ پایا جاتا تھاـ اس لئے لندن کے میئر لونگ اسٹون نے لندن میں امت مسلمہ کے سرکردہ علماءاور تحاریک اسلامی کے سربراہوںکو بلا کر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس میں 300 کے قریب مندوبین شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کی صدارت علامہ یوسف القرضاوی نے کی اور انہوں نے کانفرنس کے اعلامیے میں 4 ستمبر کو عالمی یوم حجاب منانے کا اعلان کیا۔
اس طرح سے 4 ستمبر عالمی طور پر یوم حجاب قرار پایا اور ستمبر 2004سے ہی پوری دنیا میں اسے منایا جاتا ہے۔
اس دن مسلمان عورت اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ حجاب اسلام کا عطا کردہ معیار عزت و عظمت ہے، حجاب ہمارا حق ہے یہ کوئی پابندی یاجبر کی علامت نہیں ہے بلکہ حکم خداوندی ہے اور حجاب کا پسماندگی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ہمارا فخر اور وقار ہے۔
urlمغربی معاشرہ مسلم سماج میں بڑھتی ہوئی دینی بیداری اور شعور کو دیکھ کر خوف زدہ ہے۔ یہ خوف 11 ستمبر کے حملوں کے بعد دوگنا ہوگیا ہے۔اسی وجہ سے مسلم معاشرے میں حجاب کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مغربی ذرائع ابلاغ کافی خوف زدہ نظر آرہے ہیں۔یہ ان کا خوف ہی ہے کہ وہ جبراََ طالبات اور مسلم عورتوں کو پردے کے استعمال سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے خلاف زبردست پروپیگینڈا مہم جاری کر رکھی ہے۔۔ مغربی ممالک میں حجاب کے خلاف بڑھتے ہوئے رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے برطانوی مسلمانوں کی تنظیم”مسلم ایسوسی ایشن آف برٹن “نے عالمی سطح پر لندن میں حجاب کانفرنس کا اہتمام کیا تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جاسکے کہ مسلمان عورتیں حجاب کسی جبر و دباﺅ کی وجہ سے نہیں لیتیں بلکہ وہ اپنی مرضی سے مذہب اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہونے میں آزاد ہیں۔ 12 جولائی کو ہونے والی اس کانفرنس کے مہمان خصوصی علامی یوسف القرضاوی تھے۔ اس کے علاوہ 14 ممالک کے مندوبین نے کانفرنس میں شرکت کی ۔اس کانفرنس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ 4 ستمبر کو عالمی یوم حجاب کے طور پر منایا جائے گا۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے فرانس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ،”وہاں حجاب پر عائد پابندی کو ختم کیا جائے“ اس کے علاوہ جرمنی میں بھی عورتوں کے حجاب پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ علامہ القرضاوی نے کہا کہ فرانس کو چاہیے کہ وہ حجاب پر پابندی کا اپنا فیصلہ منسوخ کرے ، کیونکہ یہ یہودی باڑے (علیحدہ بستی) والی ذہنیت کی عکاسی ہے اور اس طرح آپ مسلمانوں کو ناراض کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انسانی تہذیب کے منافی ہے بلکہ اس سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔ یہ مذہبی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔
لندن کے میئر کین لونگ سٹون کی میزبانی میں بلائی گئی اس کانفرنس میں دنیا بھر کے تقریبا©300 مندوبین نے شرکت کی۔اس دوران حاضرین نے اس بات کا عہد بھی کیا کہ وہ دنیا بھر میں کسی مسلم خاتون کے ساتھ حجاب کے معاملے میں ہونے والی نا انصافی کے خلاف اس کی حمایت کریں گے۔برطانیہ میں حجاب پر کسی طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔میزبان لونگ سٹون نے کہا کہ برطانیہ کے مسلمانوں کو فرانس یا جرمنی جیسے حالات کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑے گا۔ایسے حالات میں جبکہ مغربی ممالک میں یہ عام رجحان بنتا جارہا تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی شعار کو ہدف ملامت بنایا جائے، حجاب کے خلاف ہونے والے فیصلے اسی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔اس کے خلاف صف آراءہونا وقت کی ضرورت تھی۔اور اس ضرورت کو برطانوی مسلمانوں کی اس تنظیم نے بروقت محسوس کیا۔اس کاز میں دیگر کئی اہم تنظیمیں بھی شامل ہیں۔کانفرنس میں 4 ستمبر کو عالمی یوم حجاب کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ مغربی ممالک میں اسلامی شعار کو اپنانے کا جذبہ موجودہ نسل میں تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے جو کہ مغربی ذرائع ابلاغ اور وہاں کی حکومتوں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ یہاں مسلمانون کی وہ پہلی نسل جو مختلف اسلامی ممالک سے ہجرت کرکے آئی تھی ان میں یہ رجحان نہیں پایا جاتا تھا۔اس طرح یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مغربی ممالک میں آباد مسلمانوں کی موجودہ نسل تیزی سے اسلام کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یہ جہاں ایک خوش آئند پیش رفت ہے،وہیں اسلام دشمن عناصر کے لیے تشویش کا باعث بھی ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ عام آدمی کو اسلامی قوانین سے واقف کرایا جائے اور اسے یہ باور کرایا جائے کہ حجاب یا دیگر مذہبی شعار کا استعمال دباﺅ یازیادتی کی وجہ سے نہیں کیا جاتا جیسا کہ حجاب مخالف پروپیگینڈا کے ذریعے باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے بلکہ یہ ہر فرد کا آزادانہ فیصلہ ہوتا ہے اور یہ مسلمان عورت کا حق بھی ہے اور اس کا افتخار بھی جو وہ اللہ کا حکم سمجھ کر قبول کرتی ہے۔جیسے اسے نماز اور روزے کا حکم دیاگیاہے۔ اسی طرح اسے حجاب کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ جسے وہ پورا کرکے احکام الٰہی کی بجاآوری کرتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

توہین رسالت،جماعت اسلامی کا کل کراچی میں احتجاج کا اعلان

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف جماعت اسلامی کا کراچی میں کل احتجاج کا اعلان، جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم...

اسٹیل ٹاون، پولیس کی بڑی کارروائی مختلف وارداتوں میں ملوث 2 ملزمان گرفتار

کراچی: اسٹیل ٹاون پولیس کی بڑی کارروائی، مختلف وارداتوں میں ملوث 2 ملزمان گرفتار، پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان شہری سے لوٹ...

پاک بحریہ کا اینٹی شپ میزائلز فائرنگ کا کامیاب مظاہرہ،ہمہ وقت تیار ہیں،نیول چیف

پاک بحریہ کا اینٹی شپ میزائلز فائرنگ کا کامیاب مظاہرہ،پاک بحریہ نے شمالی بحیرہ عرب میں سطح سمندر اور ہوا سے اینٹی...

فیس بک نے ’پڑوس سروس‘ پرغورشروع کردیا

فیس بک نے پڑوس کے علاقوں اور وہاں موجود سروس کے تعارف کے لیے ایک نئی سہولت پر غور شروع کردیا،...