Friday, January 22, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

پاکستان کا وفادار اسرائیل تسلیم نہیں کرسکتا، مولانا فضل الرحمن

جمعیت علما اسلام کے  سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کراچی میں اسرائیل نامنظور ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو پاکستان کا...

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور علی زیدی میں تلخ کلامی

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر علی زیدی میں تلخ کلامی، ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی وزیر...

ن لیگ پر تنقید کے بعد حکومت نے بجلی مہنگی کردی

 وفاقی وزارت بجلی کی پوری ٹیم نے پریس کانفرنس میں ن لیگ کی سابقہ حکومت پر شدید تنقید کے بعد بجلی کی قیمت میں...

ریلی اور میچ کے باعث شہر میں بدترین ٹریفک جام

شہرقائد کے باسیوں کو بد ترین ٹریفک جام کا سامنا، ذرائع کے مطابق آج 21 جنوری بروز جمعرات کو جمعیت علما اسلام کے اسرائیل...

”یارمِ “ تبصرہ: شاہ رخ نذیر)

unnamedناول یارم کا شمار موجودہ دور کے نامور ناولز میں ہوتا ہے۔ مصفنہ سمیرا حمید ہیں جنھوں نے روایتی انداز کے بجائے ایک منفرد اندازِبیاں اپنایا۔ اچھوتے موضوعات اور منفرد عنوان سے اپنے قارئین کا دل جیتنا جانتی ہیں۔ میری نظر میں دنیا کا سب سے بڑا طلسم لفظوں میں ہے اور سمیرا حمید اس طلسم کا صحیح استعمال جانتی ہیں۔
”یارم“ کہانی ہے محبت کی، محبت کرنے والوں کی اور محبت کو پالینے والوں کی۔ مرکزی کردار لاہور کی لاڈلی دھوپ سی ”امرحہ“۔ جو ایک عام انسان ہے، مگر اس عام سی لڑکی کی خاص بات ہے کہ وہ جب گرتی ہے تو گر کر اٹھنا اور پھر سے چلنا جانتی ہے۔ وہ کمزور تھی مگر وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی گئی۔ جس نے چلنا سیکھا، دوڑنے لگی اور پھر اڑان بھرنا بھی سیکھ گئی۔ وہ غلطی کرتی ہے پر اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا بھی جانتی ہے۔
ناول کا دوسرا مرکزی کردار مانچسٹر کا عربی سلطان ”عالیان“۔ جو دلوں میں چپکے سے بس جاتا ہے۔ جو صرف محبت کرنا اور محبت بانٹنا جانتا ہے۔ جو خوبصورت دعائیں دیتا ہے۔”وقت تمھیں زندہ رکھے“۔ جس نے جانا کہ جسم سے جان اس وقت نہیں نکلتی جب اپنی جان نکلتی ہے۔ یہ جان اس وقت نکلتی ہے جب جان سے پیارے کی جان نکلتی ہے۔
ناول میں ان دومرکزی کرداروں کے علاوہ اور بھی کچھ ایسے کردار ہیں جن کے بغیر امرحہ عالیان شاید امرحہ عالیان نہ ہوتے۔ لیڈی مہر، جو سراپا محبت ہیں۔ انھوں نے ثابت کےا کہ انسانیت ، رنگ و نسل سے بالا تر ہے اور محبت کی سیڑھی پہ چڑھ کر وہ انسانیت کی معراج پر جا پہنچی۔ سادھنا، ایک باہمت عورت جو حالات سے لڑنا جانتی ہے اور اپنی اولاد کی زندگی کے لیے دور دیس محنت کرنے آئی ہے۔
15267628_1135137303248358_644678662449405495_nویرا دی روسی ٹائگریس، روس کی سفید موت جیسی برف میں رہ کر بھی جس کا دل موم سا نرم رہا ۔ دوستی جس کے لیے مقدس رشتہ ہے۔ سخت موسموں میں پلنے کے بعد بھی اس نے اپنے دل میں محبت کو سرد پڑنے نہیں دیا۔ سائی، ان سنے لفظوں کا مسیحا، جس کا دل کئی سارے رازوں کا قبرستان ہے، وہ ایک سچا دوست ہے۔ کارل دی ڈزاسٹر، انسان کے روپ مےں ایک بلا، جو دوستوں کو دشمن کی کمی محسوس ہونے نہ دے۔ مگر وہ دوستی میں کھرا اور سچا، جس سے محبت یا نفرت تو کی جا سکتی ہے مگر اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ناول کی منظر نگاری قابل ذکر ہے، مانچسٹر ےونیورسٹی کا نقشہ،آکسفورڈ روڈ پہ چلتی زندگی، ہارٹ راک کے پل، ڈریگن پریڈ کا جشن، برننگ مین کی سیاہ رات اور برازیلا اسٹیڈیم کا ہنگامہ بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے، یارم کو پڑھتے وقت قارئین ان کرداروں کے ساتھ ہنسنے اور رونے پر مجبور ہوجائیںگے ۔ محبت کی اس اچھوتی داستان میں کھٹے میٹھے پل، کرداروں کی زندگی کے اتار چڑھاﺅ اور ہجر و صال کی گھڑیاں آپ کو اپنے سحر میں گرفتار ضرور کریں گے۔
مصنفہ سے فیس بک پر رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں

https://www.facebook.com/sumaira.hameed.author

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat