Monday, October 26, 2020
Home کالم /فیچر یمن۔ پاکستان کیا کرے؟ (سلیم صافی )

یمن۔ پاکستان کیا کرے؟ (سلیم صافی )

saleem-safiہم پاکستانی غریب تو ہیں ‘مگر عجیب بھی ہیں۔ کوئی ایک یا چند مداری کوئی ڈگڈگی بجالیتے ہیں اور پھر پوری قومی قیادت یا دانشور بلاسوچے سمجھے وہی ڈگڈگی بجاتے نظر آتے ہیں۔ تازہ ترین مثال یمن کی صورت حال اور پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کی حمایت کے اعلان پر ردعمل کی شکل میں نظرآرہا ہے ۔ بغیر کسی دلیل کے ‘ بلاسوچے سمجھے یہ ڈگڈگی بجائی جارہی ہے کہ یہ شیعہ سنی یا پھر ایران اور سعودی عرب کی جنگ ہے اور اس میں حصہ دار بن جانے سے پاکستان میں بھی شیعہ سنی جنگ چھڑ جائے گی۔حالانکہ جس عجلت کا مظاہرہ حکومت نے فیصلہ کرنے میں کیا‘ اسی طرح عجلت کا مظاہرہ اکثر سیاستدان اور دانشوررائے دینے میں کررہے ہیں۔ لیکن اگر چند زمینی حقائق مدنظر رکھے جائیں تو صورت حال یکسر مختلف سامنے آتی ہے ۔
مثلاًافغان طالبان سنی تھے۔ ایران مخالف تھے۔ انہوں نے ہزارہ رہنما عبدالعلی مزاری کو قتل کیا تھا۔ افغانستان کے ہزارہ یعنی شیعہ ان کے مخالف تھے ۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کے خلا ف بھرپور جنگیں بھی لڑی تھیں۔ پھر کیا طالبان کے خلاف کارروائی سنیوں کے خلاف کارروائی تھی؟۔اگر نہیں تو پھر یمنی حوثیوں کے خلاف کارروائی سنی شیعہ جنگ کیسی ہوگئی؟
آج تک ایران نے باقاعدہ طور پر اپنے آپ کو یمن کی صورت حال کا فریق ڈیکلیر نہیں کیا۔ وہ یمن کا پڑوسی بھی نہیں۔ یقینا یمنی حوثی اس کی پراکسی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اسے درپردہ ایران کا ہی تعاون حاصل ہے لیکن یہ سب کچھ درپردہ ہوررہا ہے ۔ صرف یمنی حوثی نہیں بلکہ شام کے بشارالاسد بھی ایران کے پراکسی ہیں ۔ لبنان کے حزب اللہ کو بھی یہ حیثیت حاصل ہے ۔ اگر ان دونوں کے خلاف کاروائی کو ایران نے اپنے خلاف حملے سے تعبیر نہیں کیا اور وہاں ان دونوں کے خلاف کاروائیوں میں مخالف قوتوں کے ساتھ تعاون کرنے والی عالمی قوتوں کے ساتھ دشمنی ترک کرکے وہ دوستی استوار کررہا ہے تو پھر یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی (جو یمنی حکومت کی درخواست پر کی جارہی ہے ) کیسے ایران کے ساتھ جنگ قرار پائے گی اور اس حوالے سے سعودی عرب کو سپورٹ کرنے والا پاکستان کیوںکر ایران کا دشمن بن جاتا ہے؟۔ہر کوئی جانتا ہے کہ افغان طالبان کسی زمانے میں پاکستان اوربعض خلیجی ممالک کے لئے پراکسی کے طور پر کام کررہے تھے جبکہ مخالف شمالی اتحاد ایران‘ روس اور ہندوستان کے لئے ۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ کی قیادت نے طالبان کے خلاف کارروائی کی تو اسے پاکستان اور بعض خلیجی ممالک نے اپنے اوپر حملے سے تعبیر نہیں کیا۔ پھر حوثیوں کے خلاف کارروائی کیوں کر ایران کے ساتھ جنگ سے تعبیر کی جارہی ہے؟ ۔
یمن کے حوثی (زیدی) اپنے آپ کو شیعہ قرار دے رہے ہیں لیکن ایرانی علماء ان کے بعض عقائد کی وجہ سے ان کو راسخ العقیدہ شیعہ نہیں مانتے ۔ تاہم اگر وہ راسخ العقیدہ شیعہ ہیں تو بھی یمنی صدر عبدالرب منصور ہادی کے ساتھ ان کی جنگ مسلکی بنیادوں پر نہیں ہورہی ۔ اس لئے سابق صدر علی عبداللہ صالح جو کل تک عبدالرب منصور ہادی کی طرح یمنی سنیوں کے نمائندے سمجھے جاتے تھے ‘ بھی اس جنگ میں حوثیوں کے ساتھ ہیں اور ان کے حامی مسلح گروہ ان کے ساتھ مل کر یمنی حکومت کی افواج کے خلاف لڑرہے ہیں ۔ ان زمینی حقائق کے ساتھ کیا یمن کے قضیے کو شیعہ سنی قضیہ قرار دیناقرین انصاف ہے؟ ۔
صدام حسین سنی تھے اور پاکستان کے اندر کئی سنی لیڈروں کو انہوں نے نوازا بھی تھا۔ عراق کے اندر ان پر اہل تشیع کو دبانے کا الزام تھا اور ان کی حکومت کو عراقی سنیوں کی نمائندہ حکومت سے تعبیر کیا جارہا تھا۔ عملاً ایسا ہوا بھی کہ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں شیعہ مسلک کے حامل لوگوں کی حکومت قائم ہوئی۔ ایک ایسی حکومت جسے بیک وقت امریکہ اور ایران کی سرپرستی حاصل ہے ۔ اگر کسی نے صدام حسین کے خلاف کارروائی کو سنیوں کے خلاف کارروائی سے تعبیر نہیں کیا اور سعودی عرب ‘ قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے سنی اکثریت کے ملک صدام حسین کی حمایت میں میدان میں نکل نہیں آئے تو پھر یمن کے حوثی باغیوں اور سنی علی عبداللہ صالح کے حامی فوجیوں کے خلاف سعودی عرب کی سرگردگی میں خلیجی ممالک کی مشترکہ کارروائی کو شیعہ سنی جنگ کیوں قرار دیا جارہا ہے ؟
ایسا نہیں کہ سعودی عرب کی حالیہ مداخلت سے یمن میں فساد کا آغاز ہوا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک عرصہ دراز اور بالخصوص گزشتہ دو عشروں سے سیاسی عدم استحکام سے دو چار ہے ۔ ایک لمبے عرصے تک یمن شمالی اور جنوبی یمن میں تقسیم تھا اور نوے کے عشرے میں وہ متحدہ یمن بن گیا۔ نائن الیون کے بعد وہاں القاعدہ فعال ہوگئی تھی اور خود اسامہ بن لادن کے والد بھی یمنی النسل تھے۔ القاعدہ نے اسی طرح یمنی حکومت کو چیلنج کیا تھا جس طرح حوثیوں نے چیلنج کیا تھا۔ القاعدہ کے خلاف کئی ہزار کلومیٹر دور واقع امریکہ نے ڈرون حملوں کا سلسلہ کافی سالوں سے شروع کررکھا ہے ۔ اب جو ممالک اور قوتیں ان ڈرون حملوں پر خوشی کا اظہار کررہی تھیں‘ وہی قوتیں سعودی کارروائی پر زیادہ سیخ پا ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہزاروں کلومیٹر سے آئے ہوئے امریکہ کے ڈرون حملوں سے قیامت برپا نہیں ہورہی تھی تو پڑوسی ملک سعودی عرب سے خود یمنی صدر کی درخواست پر سعودی عرب کی کارروائی سے قیامت کیوں آرہی ہے۔
اگر تو حوثی باغیوں کی حکومت اقوام متحدہ نے تسلیم کی ہو یا پھر وہ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہو تو پھر تو اس کے خلاف کارروائی نامناسب ہے لیکن جب وہ غیرملکی سپورٹ سے ہتھیاروں کے ذریعے عبدالرب منصور ہادی کی حکومت کو ختم کررہے ہیں اور وہ اپنی حکومت کو بچانے کے لئے دنیا سے مدد طلب کررہے ہیں تو اس صورت میں خلیجی ممالک کی فضائی کارروائی کیا جارحیت کے زمرے میں آتی ہے یا کہ پھر پہلے سے ہوئی جارحیت کے خلاف اقدام کے زمرے میں ۔ سوال یہ ہے کہ اس سوال پر غور کیوں نہیں ہورہا؟۔
یمن ایران کا حصہ نہیں ۔ ماضی میں بھی یہ کبھی ایران کا حصہ نہیں رہا ۔ ایران کے ساتھ اس کی سرحد نہیں لگتی ۔ وہاں ایران کی فوج موجود نہیں۔ یمن میں ایرانی النسل لوگ بھی نہیں رہتے۔ یمن میں کام کاج کے لئے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد ‘ ایران سے زیادہ ہے ۔ یمن اور ایران کا آپس میں دفاعی معاہدہ بھی موجود نہیں ۔ ایران علانیہ طور پر حوثیوں کی بھی حمایت نہیں کررہا اور اس بات سے انکاری ہے کہ وہ حوثیوں کو مالی یا حربی مدد فراہم کررہا ہے ۔ پھر اگر پڑوسی ہونے کے ناطے ‘ یمنی حکومت کی اپیل پر اگر سعودی عرب وہاں کارروائی کررہا ہے تو یہ ایران اور سعودی عرب کی جنگ کیسے ہوگئی؟
افغانستان کے ساتھ ایران کی سرحد لگتی تھی اور وہاں کارروائی کی قیادت کرنے والے امریکہ کے ساتھ نہ صرف ایران کی مخاصمت چلی آرہی تھی بلکہ افغان جنگ کے آغاز کے وقت امریکی صدر بش نے برائی کے محور کی فہرست میں ایران کو بھی شامل کیا تھا لیکن افغانستان پر امریکی حملے کے بعد کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ ایران اور امریکہ کی جنگ ہے ۔ اسی طرح عراق کے ساتھ بھی ایران کی سرحد لگتی ہے اور عراقی آبادی کی اکثریت شیعہ ہے لیکن عراق پر امریکہ کے حملے کے وقت کسی نے یہ نہیں کہا کہ امریکہ اور ایران کی جنگ ہونے جارہی ہے بلکہ ایران نے طالبان اور صدام حکومت کو گرانے اور دونوں ممالک یعنی افغانستان اور عراق میں نئی بساط بچھانے میں امریکہ کی مدد بھی کی ۔ تو پھر کس بنیاد پر یمن میں پڑوسی ملک سعودی عرب کی کارروائی کو ایران اور سعودی عرب کی جنگ کا نام دیا جارہا ہے ۔
کہنے کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ سعودی عرب ‘ یمن میں مداخلت کرنے میں حق بجانب ہے یا پھر پاکستان کو آنکھیں بند کرکے اس کی حمایت کرنی چاہئے ۔ مدعا فقط یہ ہے کہ اس معاملے کو شیعہ سنی یاپھر ایران اور سعودی عرب کی جنگ کے آئینے میں دیکھنا درست نہیں اور پاکستان کو کوئی بھی فیصلہ اپنے قومی مفادات کو مدنظررکھ کر کرنا چاہئیے۔ قومی مفادات نہ کہ شریف خاندان کے مفادات یا پھر کسی ادارے سے وابستہ اعلیٰ افسران کے ذاتی تعلقات اور مفادات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے ۔ وہ فیصلہ تمام اداروں اور پارلیمنٹ کی مشاورت سے ہونا چاہئیے ۔ وہ فیصلہ شیعہ یا سنی بن کر نہیں بلکہ خالص پاکستانی سوچ کے ذریعے ہونا چاہئے اور وہ فیصلہ ماضی‘ حال اور مستقبل کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہئے۔ معاملہ اگر صرف سعودی عرب اور بالخصوص حرمین شریفین کے دفاع تک محدود ہو تو فیصلہ کچھ اور ہونا چاہئے اور اگر صرف سعودی عرب اور بالخصوص حرمین شریفین کے دفاع کا معاملہ ہو تو فیصلہ کچھ اورہونا چاہئے۔ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت پاکستان کے زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ مثلا یہ زمینی حقیقت کہ اس وقت ہماری ایک لاکھ اسی ہزار فوج پاکستان کے مغربی سرحد پر مصروف ہے۔ ملک کے تین صوبوں میں فوج یا پھر اس کے ادارے مصروف عمل ہیں ۔ کئی لاکھ فوج ہمیں ہمہ وقت مشرقی سرحد پر تیار رکھنی پڑتی ہے ۔ مکرر عرض ہے کہ یمن کا معاملہ شیعہ سنی جنگ ہے اور نہ ایران اور سعودی عرب کی لیکن زمینی حقیقت اور بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے مذہبی گروہ موجود ہیں جو پاکستان سے بڑھ کر ایران یا عرب ممالک کے وفادار ہیں۔ انہیں پاکستان کے مفادات کا کم اور ایران یا عرب ممالک کے مفادات کا زیادہ خیال رہتا ہے ۔ دونوں بڑی جماعتوں میں سے ایک کو ایک بلاک کا اور دوسرے کو دوسرے بلاک کا آلہ کار سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے اس حوالے سے جو بھی فیصلہ ہو ‘ اسے اندرونی تقسیم اور سیاست کی بھینٹ چڑھانے کی بجائے پاکستان کے نفع و نقصان کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہئے۔
بشکریہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...